لکھنؤ،29؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) اترپردیش کی رجادھانی لکھنؤ میں اچانک طلب میں اضافہ کے سبب اب آٹے کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ اس مسئلہ کی وجہ یہ ہے کہ آٹا ملوں کے پاس گندم کی کمی ہے اور اس کے پیش نظر تاجروں نے آٹے کے داموں میں اضافہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد مقامات پر آٹا 30 سے 50 روپے فی کلو کی قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔
کچھ تاجروں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سپلائی رک گئی ہے اور گندم ملوں تک نہیں پہنچ پا رہا، لہذا یہ بحران گہراتا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس پر توجہ دینا شروع کر دیا ہے، تاہم ابھی تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔
گومتی نگر کی رہنے والی سیتا نے بتایا کہ ان کے علاقے میں آٹا دستیاب نہیں ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ گاؤں میں 20 سے زیادہ چھوٹی اور بڑی دکانیں ہیں لیکن آغا چند مقامات پر ہی دستیاب ہے۔ جن کے پاس موجود ہے وہ 40 روپے فی کلوگرام کے حساب سے آٹا فروخت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہول سیل تاجر مہنگے داموں پر آٹا فروخت کر رہے ہیں، لہذا چھوٹے دکانداوں کا بھی اسے مہنگے داموں پر دینا مجبوری بن گیا ہے۔
ادھر عالم باغ کے ایک دکاندار نے بتایا کہ آٹا ہول سیل کاروباریوں کے پاس بھی دستیاب نہیں ہے اور جہاں دستیاب وہاں لمبی قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس وقت ہول سیل کاروباری آٹا 35 روپے فی کلو گرام کی قیمت پر بیچ رہے ہیں، لہذا قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹے کے لئے کافی مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔
’لکھنؤ ویاپار منڈل‘ کے صدر راجندر اگروال نے کہا کہ تاجر ضلعی انتظامیہ کو پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ اس وقت گندم ملنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیوں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گندم کی فراہمی نہیں ہو پا رہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ بار بار ہونے والیل ژالہ باری کی وجہ سے کئی مقامات پر فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔ اس وجہ سے آڑھت پر گندم کی آمد کم ہو گئی ہے۔ گندم کی قلت اور ملوں کے بند ہونے کی وجہ سے آٹا تیار نہیں ہو رہا ہے۔
ادھر، مل مالکان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں گندم کی وافر مقدار میسر ہو جائے گی تو وہ آٹا تیار کرکے کچھ ہی دنوں میں مارکیٹ میں پہنچا دیں گے۔ اس کے لئے وہ سرکاری قیمت پر آٹا خریدنے کے لئے بھی تیار ہیں۔
بازار میں آٹے کے بحران کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’اپنا کچن‘ شروع کرنے کے لئے میونسپل کارپوریشن اور ضلعی انتظامیہ کی ٹیم نے خود باربانکی سے آٹا طلب کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں خود سرکاری محکمہ بھی آٹے کے لئے پریشان ہے۔